پاکستان میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اب صرف ایک خبر نہیں رہی، یہ ہمارے گھروں کی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ کبھی طلاق کو آخری اور انتہائی قدم سمجھا جاتا تھا، آج یہ فیصلے نسبتاً جلد اور کم برداشت کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ طلاق کیوں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم نے شادی کو آخر بنا کیا دیا ہے؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا نے رشتوں کا ایک چمکتا دمکتا ورژن ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ Instagram اور TikTok پر دکھائی جانے والی مہنگی شادیاں، سرپرائز گفٹس، پرفیکٹ ہنی مونز اور ہر لمحے کی مسکراتی تصویریں ایک غیر حقیقی معیار قائم کر رہی ہیں۔ نوجوان جب اپنی سادہ اور عام زندگی کو ان فلٹر شدہ لمحوں سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں اپنا رشتہ ادھورا لگنے لگتا ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ کیمرے کے پیچھے بھی وہی انسان ہوتے ہیں، وہی جھگڑے، وہی تھکن۔
معاشی دباؤ بھی کم نہیں۔ مہنگائی کی دوڑ، بہتر لائف اسٹائل کی خواہش، دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش یہ سب مل کر شادی کو ایک جذباتی بندھن کے بجائے ایک پراجیکٹ بنا دیتے ہیں۔ گھر، گاڑی، برانڈڈ کپڑے، بیرونِ ملک ٹرپس… اگر یہ سب فوری نہ ملے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ خاص طور پر جب دونوں میاں بیوی کام کر رہے ہوں تو پیسے کے استعمال اور ترجیحات پر اختلاف شدت اختیار کر لیتا ہے۔
نفسیاتی پہلو شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ذہنی صحت پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، غصے پر قابو نہ ہونا، بچپن کے ٹراماز یہ سب رشتوں میں آ کر شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ دو نامکمل لوگ جب بغیر اپنی جذباتی کمزوریوں کو سمجھے ایک ساتھ زندگی شروع کرتے ہیں تو ٹکراؤ فطری ہو جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اختلاف کو سننا اور سن کر اس کو ہینڈل کرنا نہیں سکھایا گیا۔
معاشرتی سطح پر ایک اور تضاد موجود ہے۔ ایک طرف شادی کے بعد بھی خاندانوں کی مداخلت ختم نہیں ہوتی۔ جوڑا ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے پورے نظام کو خوش رکھنے میں لگا رہتا ہے۔ ذاتی سپیس کا تصور ابھی تک ہمارے گھروں میں پوری طرح قبول نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکیاں ایک ایسی زندگی گزار کر شادی میں داخل ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ اچانک ذمہ داری، ایڈجسٹمنٹ اور سمجھوتہ ان کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔ وہ آزادی سے ذمہ داری تک کے اس سفر کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے۔
ان سب عوامل کے درمیان ایک پہلو ایسا بھی ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، اور وہ ہے باہمی تعاون۔ شادی مقابلہ نہیں، شراکت ہے۔ حالات کبھی بھی یکساں نہیں رہتے۔ کبھی مالی دباؤ ہوگا، کبھی ذہنی تھکن، کبھی خاندانی مسائل۔ ایسے میں دونوں پارٹنرز کا ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ضروری ہے۔ برداشت، صبر اور مزاج میں نرمی رشتے کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔ اگر ایک کمزور پڑے تو دوسرا سنبھال لے، اگر ایک غلطی کرے تو دوسرا تضحیک کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرے۔ تعلق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب دونوں یہ مان لیں کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف نہیں، حالات کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہمیں شاید شادی کو ایک ایونٹ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رشتہ خوبصورت تب بنتا ہے جب دونوں افراد حقیقت کو قبول کریں، ایک دوسرے کو انسان سمجھیں، مقابلہ نہیں ساتھی سمجھیں۔ اگر ہم نوجوانوں کو جذباتی تربیت، مالی منصوبہ بندی اور حدود کے احترام کا شعور دیں تو شاید ٹوٹتے ہوئے رشتوں کی رفتار کم ہو سکے۔
طلاق ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ بہتر فیصلہ بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر رشتے صرف اس لیے ٹوٹ رہے ہوں کہ ہم نے انہیں حقیقت کے بجائے نمائش، دوڑ اور انا کی بنیاد پر کھڑا کیا تھا، تو پھر ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا۔ شادی صرف محبت نہیں، برداشت، سمجھ اور مسلسل سیکھنے کا نام ہے۔ اور شاید یہی وہ سبق ہے جسے ہم نے سادہ سمجھ کر مشکل بنا دیا ہے۔