اپنے پہلے سفر کے دوران ہی سمندر میں ڈوب جانے والے اپنے دور کے مظبوط ترین بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ آج بھی سمندر کی تہہ میں موجود ہے . ٹائی ٹینک ایک صدی بعد بھی اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس پر فلم بنتی ہے بلکہ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جاتا ہے . غوطہ خور اور سمندر پر تحقیقات کرنے والے ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے سمندر کی تہہ میں جاتے ہیں .
ٹائی ٹینک کے حوالے سے بہت سی کہانیاں بھی گردش کرتی رہتی ہیں کیونکہ اس میں اس وقت کے امیر ترین لوگ بھی سفر کر رہے تھے جن کے ہمراہ جواہرات اور دیگر اشیا موجود تھیں . ان میں سے بہت سا سامان تو نکال لیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ بہت سے قیمتی نواردات ابھی بھی تہہ آب ہیں
گزشتہ دنوں سمندر میں غرقاب بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے جانے والی ایک آبدوز جنوب مشرقی کینیڈا کی سرحد پر لاپتہ ہوگئی ہے جس میں پاکستان کے مشہور بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے 19 سال کے بیٹے سلیمان داؤد بھی موجود تھے ۔ یہ آبدوز سیاحوں کو بحراوقیانوس کی 3 ہزار 8 سو میٹر گہرائی میں موجود ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کیلئے روانہ ہوئی تھی.
یہ سفر اوشن گیٹ ایکسپڈیشنز نامی ادارے کے زیر انتظام تھا جس نے ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کے لیے آٹھ دن کا ٹرپ ترتیب دیا تھا . اس مشن کا حصہ بننے والے ایک شخص کا کرایہ ڈھائی لاکھ ڈالر تھا۔یعنی پاکستانی بزنس مین اور ان کے بیٹے نے اس سفر کے لیے مجموعی طور پر 5 لاکھ ڈالر یعنی تقریبا ساڑھے 14 کروڑ کے لگ بھگ ادا کیے تھے . اس آبدوز سے رابطہ ختم ہونے یا اس کے غائب ہونے کی اطلاع بھی اوشن گیٹ ایکسپڈیشنز نے ہی دی ہے تاہم اس ادارے نے کہا ہے کہ وہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق آبدوز میں ایک پائلٹ اور دیگر چار افراد سوار تھے اور اس میں 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کی صلاحیت تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ لاپتہ ہونے والی آبدوز اب بھی زیر آب ہے یا سطح سمندر پر آ چکی ہے کیوں کہ آبدوز سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے.
لاپتہ آبدوز میں موجود پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد کون ہیں ؟
شہزادہ داؤد برطانیہ میں مقیم اور ایس ای ٹی آئی انسٹی ٹیوٹ (سیٹی )میں ٹرسٹی ہیں، انہوں نے 2003 میں اینگرو کارپوریشن کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس وقت پاکستان کے ادارے اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ اینگرو کارپوریشن نے کھاد، گاڑیاں بنانے، توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔اس کے علاوہ شہزادہ داؤد ’داؤد ہرکولیس کارپوریشن‘کے بھی وائس چیئرمین ہیں۔ شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ اور داؤد لارنسپور لمیٹڈ کے بورڈز میں بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف بکنگھم اور امریکہ کی فلاڈیلفیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ برطانیہ میں رہتے ہیں۔
داؤد خاندان کی جانب سے بھی ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ ان کے اہلِ خانہ کے افراد اس لاپتہ آبدوز پر سوار تھے جن سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کے لیے بہت مشکور ہیں اور ہر ایک سے درخواست کرنا چاہیں گے کہ وہ ایسے وقت میں خاندان کی رازداری کاخیال رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کے لیے دعا کریں۔‘
اس کے علاوہ اس آبدوز پر برطانوی ارب پتی ہامیش ہارڈنگ اور معروف فرانسیسی غوطہ خور پال ہنری نارجیولیٹ بھی سوار تھے۔ہارڈنگ نے فیس بک پر لکھا تھا کہ وہ آبدوز میں سوار ہوں گے۔ ان کی طرف سے مزید کوئی پوسٹ نہیں کی گئی۔ سمندر کی تہہ میں جانے کے لیے مہم میں شامل افراد جمعے کو سمندر کی طرف روانہ ہوئے اور ہارڈنگ کی پوسٹ کے مطابق آبدوز کا سمندر میں پہلا غوطہ اتوار کی صبح کے لیے طے پایا۔ ہارڈنگ کے سوتیلے بیٹے نے بھی فیس بک پر لکھا کہ ’ہارڈنگ آبدوز کے ساتھ لاپتہ ہو گئے ہیں‘ انہوں نے ان کی سلامتی کے لیے دعا کی درخواست کی البتہ بعد میں انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ۔
ٹائی ٹینک دیکھنے کی خواہش .. پاکستانی بزنس مین بیٹے سمیت سمندر میں لاپتہ!
کچھ صاحب تحریر کے بارے میں
اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔